ناندیڈ میں سدو بابا

شہر ناندیڈ کے مالٹیکڑی اسٹیشن کے سامنے ایک سیلانی بابا۔ کا چلہ بنایا گیا ہے جسکو بنانے والا ایک غیر مسلم شخص ہے۔ جسکا کہنا یہ ہے میں نے سیلانی بابا کی مزار کی ایک اینٹ یہاں ۔ لاکر۔ دفن کردیا ہے اور لوگ وہاں آتے ہیں اور فیض یاب ہوتے ہیں یہاں پر آنے والے تقریبا مسلم لوگ ہیں۔ جو دور دراز سے آتے ہیں ۔ جس طرح سے ایک آسیب زدہ شخص چلا پکار کرتا ہے ۔ ویسے لوگوں کو کوی طاقت سوار ہوتی ہے ۔ کچھ تو شیر کی آواز نکالتے ہیں گویا سیلانی بابا۔ کا شیر اس پر سوار ہوا۔ لیکن جو لوگ وہاں جاتے ہیں وہ کہتے ہیں میرا فائدہ ہوا۔ میں مرض سے سبکدوش ہوا بڑا کرم ہوگیاا وغیرہ وغیرہ۔ 

جس جگہ یہ بنایا گیا ہے اس جگہ پر ایک دور میں 2007ء
اور اس سے پہلے لوگ بول و براز ۔ کو جایا کرتے تھے۔ جو کہ کھلی جگہ تھی صرف جھاڑیاں تھی۔ اور جانوروں کابھی ۔ چرنا چرانا لگا رہتا تھا۔ ۔
اسکے بعد یہ بنایا گیا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف کاروبار کے لیے کیا گیا۔ ۔

اور ایک خاص بات یہ ہے کہ جس جگہ پر یہ مصنوعی مزار ہے اسکے ۔۔مشرق جنوب میں ایک طرف اور ایک مزار ہے ۔۔ جو چلے کا مالک ہے اسکی ماں یہاں کی نگرانی کرتی ہے۔۔ اور جو ابھی دوسری مزار کا ذکر ہوا اس عورت کا بیٹا دفن ہے۔ جو کہ چکے والے کا بھائ ہے۔۔ اسکی صفت یہ ہے کہ وہ غیر مسلم تو ہے ہی۔ شرابی جواری تھا شراب کے نشے میں اسکی موت ہوگئی تھی۔۔ اسکو جلایا گیا ۔۔ بارش ہونے کی وجہ سے وہ مکمل نہیں جل سکا ۔ تو اسکے اہل خانہ نے اسکو لاکر اس جگہ دفن کردیا۔ اب کوئ فیض لینے کیلئے جاتا ہے تو وہ عورت اپنے بیٹے کی قبر پر سے پانی وارتی ہے اسکے چڑھانے ہوے پھول قوم مسلم کو دیتی ہے۔ ور ہماری قوم کے لوگ اس سے فیضیاب ہوتے ہیں ۔ ۔۔۔ جن کو معلوم ہے وہ نہیں جاتے لیکن دوسرے شہر سے آنے والوں کو کیا معلوم۔ یہ کیا ہے۔ یہ جہاں پہونچے اچھی بات ہے تاکہ پتہ چلے یہ ہمارے ساتھ غلط ہو رہا ہے۔ ہمارے جذبات سے کوی کھیل رہا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

حضرت سیدنا امام غزالی۔ رحمۃاللہ علیہ الوالی دینی خدمات و اثرات

حسد کی آگ

دکھاوے کی عبادت