ہجری تقویم کا آغاز

 ہجری تقویم کا آغاز: تاریخ، پس منظر اور اہمیت

اسلامی دنیا میں رائج ہجری تقویم مسلمانوں کی مذہبی، سماجی اور تاریخی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ تقویم چاند کی گردش پر مبنی ہے اور اسی کے ذریعے رمضان المبارک، حج، عیدین اور دیگر اسلامی عبادات کے اوقات متعین کیے جاتے ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہجری تاریخ کا آغاز کب ہوا اور اسے کس نے جاری کیا؟

ہجری تقویم کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں خطوط، معاہدات اور دیگر معاملات میں تاریخ لکھی جاتی تھی، لیکن کوئی مستقل سال مقرر نہیں تھا۔ چنانچہ جب اسلامی ریاست وسیع ہوئی اور مختلف علاقوں میں سرکاری مراسلت بڑھ گئی تو تاریخ کے تعین میں مشکلات پیش آنے لگیں۔

روایت میں آتا ہے کہ عراق کے گورنر حضرت ابو موسیٰ اشعری نے خلیفۂ وقت حضرت عمر بن خطاب کو خط لکھا کہ آپ کے خطوط تو موصول ہوتے ہیں مگر ان میں سال درج نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے انتظامی دشواریاں پیدا ہوتی ہیں۔

ہجری تقویم کا اجراء

اس مسئلے کے حل کے لیے حضرت عمر بن خطاب نے صحابۂ کرام کی ایک مجلسِ مشاورت منعقد فرمائی۔ اس میں مختلف تجاویز پیش کی گئیں کہ اسلامی تاریخ کا آغاز کس واقعے سے کیا جائے۔

بعض صحابہ نے رسول اللہ ﷺ کی ولادت کو بنیاد بنانے کی رائے دی، بعض نے بعثت (نبوت ملنے) کو اور بعض نے وصالِ نبوی ﷺ کو آغازِ تاریخ بنانے کا مشورہ دیا۔ لیکن آخرکار اس بات پر اتفاق ہوا کہ ہجرتِ نبوی ﷺ کو اسلامی تاریخ کا نقطۂ آغاز بنایا جائے۔

ہجرت کو بنیاد بنانے کی حکمت

ہجرتِ مدینہ اسلام کی تاریخ کا ایک عظیم اور فیصلہ کن واقعہ تھا۔ اسی ہجرت کے بعد:

مسلمانوں کو مذہبی آزادی حاصل ہوئی۔

اسلامی معاشرہ تشکیل پایا۔

مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست قائم ہوئی۔

اسلام کو اجتماعی اور سیاسی قوت حاصل ہوئی۔

اسی لیے صحابۂ کرام نے اس تاریخی واقعے کو اسلامی تقویم کی بنیاد بنایا۔

ہجری سال کا آغاز محرم سے کیوں؟

یہ بات قابلِ غور ہے کہ ہجرتِ نبوی ﷺ ربیع الاول کے مہینے میں ہوئی تھی، لیکن ہجری سال کا آغاز محرم سے مقرر کیا گیا۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ عربوں میں پہلے سے محرم کو سال کا پہلا مہینہ سمجھا جاتا تھا۔ علاوہ ازیں بیعتِ عقبہ کے بعد ہجرت کا ارادہ بھی محرم کے قریب پختہ ہو چکا تھا، لہٰذا انتظامی اور تاریخی مناسبت سے محرم کو سال کا پہلا مہینہ قرار دیا گیا۔

ہجری تقویم کی خصوصیات

ہجری تقویم مکمل طور پر قمری (Lunar) نظام پر مبنی ہے۔

سال میں 12 مہینے ہوتے ہیں۔

ہر مہینہ 29 یا 30 دن کا ہوتا ہے۔

قمری سال تقریباً 354 دنوں پر مشتمل ہوتا ہے۔

اس طرح قمری سال شمسی سال سے تقریباً 10 یا 11 دن کم ہوتا ہے۔

اسلامی مہینوں کے نام

محرم

صفر

ربیع الاول

ربیع الآخر

جمادی الاول

جمادی الآخر

رجب

شعبان

رمضان

شوال

ذوالقعدہ

ذوالحجہ

ہجری تقویم کی اہمیت

اسلامی عبادات اور مذہبی مناسبتوں کا تعلق ہجری تقویم سے ہے۔ مثال کے طور پر:

رمضان المبارک کے روزے

عید الفطر

عید الاضحی

حج

زکوٰۃ کی سالانہ مدت

یومِ عاشورہ

یہ تمام عبادات ہجری مہینوں کے مطابق ادا کی جاتی ہیں۔

نتیجہ

ہجری تقویم کا باقاعدہ اجراء 17 ہجری میں خلیفۂ راشد حضرت عمر بن خطاب کے دورِ خلافت میں عمل میں آیا۔ صحابۂ کرام کے باہمی مشورے سے ہجرتِ نبوی ﷺ کو اسلامی تاریخ کا نقطۂ آغاز قرار دیا گیا۔ یہ فیصلہ محض ایک انتظامی ضرورت نہیں تھا بلکہ اسلامی تہذیب، شناخت اور تاریخ کے ایک عظیم واقعے کی یادگار بھی تھا۔ آج چودہ صدیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ہجری تقویم پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے مذہبی اور تاریخی اہمیت رکھتی ہے۔

مراجع: تاریخ الطبری، البدایہ والنہایہ، فتح الباری، سیرت ابن ہشام۔

Comments

Popular posts from this blog

حضرت سیدنا امام غزالی۔ رحمۃاللہ علیہ الوالی دینی خدمات و اثرات

حسد کی آگ

دکھاوے کی عبادت