Posts

ہجری تقویم کا آغاز

 ہجری تقویم کا آغاز: تاریخ، پس منظر اور اہمیت اسلامی دنیا میں رائج ہجری تقویم مسلمانوں کی مذہبی، سماجی اور تاریخی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ تقویم چاند کی گردش پر مبنی ہے اور اسی کے ذریعے رمضان المبارک، حج، عیدین اور دیگر اسلامی عبادات کے اوقات متعین کیے جاتے ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہجری تاریخ کا آغاز کب ہوا اور اسے کس نے جاری کیا؟ ہجری تقویم کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں خطوط، معاہدات اور دیگر معاملات میں تاریخ لکھی جاتی تھی، لیکن کوئی مستقل سال مقرر نہیں تھا۔ چنانچہ جب اسلامی ریاست وسیع ہوئی اور مختلف علاقوں میں سرکاری مراسلت بڑھ گئی تو تاریخ کے تعین میں مشکلات پیش آنے لگیں۔ روایت میں آتا ہے کہ عراق کے گورنر حضرت ابو موسیٰ اشعری نے خلیفۂ وقت حضرت عمر بن خطاب کو خط لکھا کہ آپ کے خطوط تو موصول ہوتے ہیں مگر ان میں سال درج نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے انتظامی دشواریاں پیدا ہوتی ہیں۔ ہجری تقویم کا اجراء اس مسئلے کے حل کے لیے حضرت عمر بن خطاب نے صحابۂ کرام کی ایک مجلسِ مشاورت منعقد فرمائی۔ اس میں مختلف تجاویز پیش کی گئیں کہ اسلامی تاریخ کا آغاز کس واقعے سے کیا ج...

ناندیڈ میں سدو بابا

شہر ناندیڈ کے مالٹیکڑی اسٹیشن کے سامنے ایک سیلانی بابا۔ کا چلہ بنایا گیا ہے جسکو بنانے والا ایک غیر مسلم شخص ہے۔ جسکا کہنا یہ ہے میں نے سیلانی بابا کی مزار کی ایک اینٹ یہاں ۔ لاکر۔ دفن کردیا ہے اور لوگ وہاں آتے ہیں اور فیض یاب ہوتے ہیں یہاں پر آنے والے تقریبا مسلم لوگ ہیں۔ جو دور دراز سے آتے ہیں ۔ جس طرح سے ایک آسیب زدہ شخص چلا پکار کرتا ہے ۔ ویسے لوگوں کو کوی طاقت سوار ہوتی ہے ۔ کچھ تو شیر کی آواز نکالتے ہیں گویا سیلانی بابا۔ کا شیر اس پر سوار ہوا۔ لیکن جو لوگ وہاں جاتے ہیں وہ کہتے ہیں میرا فائدہ ہوا۔ میں مرض سے سبکدوش ہوا بڑا کرم ہوگیاا وغیرہ وغیرہ۔  جس جگہ یہ بنایا گیا ہے اس جگہ پر ایک دور میں 2007ء اور اس سے پہلے لوگ بول و براز ۔ کو جایا کرتے تھے۔ جو کہ کھلی جگہ تھی صرف جھاڑیاں تھی۔ اور جانوروں کابھی ۔ چرنا چرانا لگا رہتا تھا۔ ۔ اسکے بعد یہ بنایا گیا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف کاروبار کے لیے کیا گیا۔ ۔ اور ایک خاص بات یہ ہے کہ جس جگہ پر یہ مصنوعی مزار ہے اسکے ۔۔مشرق جنوب میں ایک طرف اور ایک مزار ہے ۔۔ جو چلے کا مالک ہے اسکی ماں یہاں کی نگرانی کرتی ہے۔۔ اور جو ابھی دوسری ...

⚠️ اپریل فول اور ہماری معاشرت

  اپریل فول کی حقیقت: ایک تحقیقی اور اصلاحی مضمون ہر سال یکم اپریل کو دنیا بھر میں ایک دن منایا جاتا ہے جسے "اپریل فول" کہا جاتا ہے۔ اس دن لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مذاق کرتے ہیں، جھوٹی خبریں پھیلاتے ہیں اور دوسروں کو بے وقوف بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک ہلکا پھلکا تفریحی دن لگتا ہے، مگر اس کے پس منظر اور حقیقت پر غور کرنا بہت ضروری ہے۔ 📜 اپریل فول کی تاریخ کیا ہے؟ اپریل فول کی اصل تاریخ کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔ ایک مشہور رائے کے مطابق جب Gregorian Calendar reform کے ذریعے نیا کیلنڈر رائج کیا گیا تو کچھ لوگ پرانے طریقے کے مطابق اپریل میں نیا سال مناتے رہے۔ اس پر دوسرے لوگ ان کا مذاق اڑانے لگے، اور آہستہ آہستہ یہ ایک روایت بن گئی۔ یورپ کے مختلف ممالک، خصوصاً France میں یہ رسم پھیلی اور پھر دنیا کے دیگر حصوں میں بھی رواج پا گئی۔ تاہم، اس کی کوئی قطعی اور مستند تاریخی بنیاد موجود نہیں ہے۔ ⚠️ اپریل فول اور ہماری معاشرت آج کے دور میں اپریل فول صرف ایک مذاق تک محدود نہیں رہا، بلکہ بعض اوقات اس کے ذریعے: جھوٹی خبریں پھیلائی جاتی ہیں لوگوں کو ذہنی اذیت دی جاتی...

ضروریات ایک عبادت

 ✨ سبق آموز حکایت ✨ ایک بادشاہ نے ایک عبادت گزار سے پوچھا، جو کہ بال بچوں والا تھا: “تیری زندگی کس حال میں گزرتی ہے؟” عابد نے عرض کیا: “تمام رات مناجات میں، صبح حاجتوں کی دعا میں، اور سارا دن اخراجات کی فکر میں گزرتا ہے۔” بادشاہ کو اشارہ سمجھ آگیا اور حکم دیا کہ اس عابد کا خرچ مقرر کردیا جائے تاکہ بچوں کی فکر دل سے نکل جائے اور وہ سکون سے عبادت کرسکے۔ --- 🖋️ مثنوی اے بال بچوں کی بیڑی میں گرفتار، پھر آزادی کا خیال نہ کرنا۔ اولاد، روٹی، کپڑے اور روزی کا غم، تجھے عالمِ ملکوت کی سیر سے لوٹا لائے گا۔ تمام دن یہ نیت کرتا ہوں، کہ رات کو خدا کی عبادت میں لگوں گا۔ مگر جب نماز کی نیت باندھتا ہوں، تو فکر ہوتی ہے صبح کو بال بچے کیا کھائیں گے… --- 🌿 سبق رزق کی فکر انسان کی عبادت میں بھی رکاوٹ بن جاتی ہے۔ اہل خانہ کی ضروریات پوری کرنا بھی عبادت ہے۔ حکمران کی اصل ذمہ داری رعایا کے فقر و فاقہ کو دور کرنا ہے۔ 🌸 اگر یہ حکایت آپ کو پسند آئی تو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں، اور مزید سبق آموز کہانیاں پڑھنے کے لیے ہمارے بلاگ پر وزٹ کریں۔

برے دوست اور بد مزاج بیوی کی حقیقت ۔

Image
 ✨ سبق آموز حکایت ✨ دمشق میں دوستوں کی صحبت سے دل تنگ ہوگیا تو میں قدس کے جنگل کی طرف نکل گیا اور جانوروں سے محبت کرنے لگا۔ پھر فرنگیوں نے قید کر کے مجھے یہودیوں کے ساتھ طرابلس کی خندق میں مٹی ڈھونے پر لگا دیا۔ اسی دوران حلب کا ایک رئیس وہاں سے گزرا، جو مجھے جانتا تھا۔ اس نے میری حالت دیکھی اور دس دینار دے کر قید سے چھڑایا اور اپنے ساتھ لے گیا۔ اس کی ایک بیٹی تھی جس سے سو دینار پر میرا نکاح کردیا۔ کچھ دن گزرے تو اس عورت نے بد مزاجی شروع کردی، زبان درازی اور طعنہ زنی سے میرا جینا دوبھر کردیا۔ ایک دن کہنے لگی: “کیا تم وہی نہیں ہو جسے میرے باپ نے دس دینار دے کر فرنگیوں کی قید سے چھڑایا تھا؟” میں نے جواب دیا: “ہاں، لیکن میں وہی ہوں جسے دس دینار دے کر فرنگیوں کی قید سے چھڑایا گیا، مگر سو دینار کے عوض تیرے ہاتھوں گرفتار کردیا گیا۔” --- 🖊️ اشعار نیک آدمی کے گھر میں بد عورت، اسی عالم میں اس کے لئے دوزخ ہے۔ بچائے خدا برے ساتھی سے، اے ہمارے رب! ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔ میں نے سنا ایک بزرگ نے بکری کو بھیڑیے کے پنجے سے چھڑایا۔ رات کو اس نے بکری کے گلے پر چھری پھیر دی، بکری فریاد کرنے لگی: “ب...

اعتدال ہی اصل عبادت ہے

 🌹 سبق آموز حکایت 🌹 ایک عابد کے بارے میں آتا ہے کہ وہ رات کو دس سیر کھا لیتا اور صبح تک ایک قرآن ختم کر لیتا۔ یہ سن کر ایک صاحبِ دل نے فرمایا: اگر وہ آدھی روٹی کھا کر سو جاتا تو اس سے زیادہ بہتر تھا۔ ✍️ پیغام: اصل نیکی اور معرفت صرف زیادہ عبادت کرنے میں نہیں، بلکہ نفس پر قابو پانے اور میانہ روی اختیار کرنے میں ہے۔ جب پیٹ ضرورت سے زیادہ بھر جائے تو دل کی روشنی بجھ جاتی ہے اور حکمت و معرفت کی راہیں بند ہو جاتی ہیں۔ 📖 سعدی شیرازی فرماتے ہیں: "پیٹ کو کھانے سے خالی رکھ تاکہ تو اسمیں معرفت کا نور دیکھے۔ تو دانائی سے اسی لئے خالی ہے، کہ تیرا ناک تک پیٹ بھرا ہے۔" ✨ سبق: اعتدال اور سادگی ہی اصل عبادت ہے۔ کم کھانا، زیادہ سوچنا اور خلوص سے عمل کرنا ہی انسان کو اللہ کے قریب کرتا ہے۔ نفس پر قابو پالینا ہزاروں عبادتوں سے بڑھ کر ہے۔ 🤲 اللہ ہمیں ظاہری عبادت کے ساتھ باطنی اصلاح کی بھی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ ۔محمد مختار امجدی  📩 اگر آپ کو یہ حکایت پسند آئی ہو تو نیچے تبصرہ ضرور کریں، اور اپنے دوستوں سے شیئر کریں تاکہ یہ سبق زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچے۔ 🔖 مزید اسلامی اور اخلاقی کہانیوں...

🌿 حکمت، نصیحت اور بے اثر دلوں کا حال ماخوذ: گلستانِ سعدیؒ

  🌿 یونان کے ایک علاقے میں ڈاکوؤں نے ایک قافلے پر حملہ کیا اور بے اندازہ مال و دولت لوٹ کر لے گئے۔ قافلے کے سوداگر رونے پیٹنے لگے، اور خدا و رسول کی دہائی دینے لگے، مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ شعر: جب سیاہ دل چور کامیاب ہو گیا، تو اس کو قافلہ کے رونے پیٹنے کا کیا غم؟ اس قافلے میں مشہور حکیم، حضرت لقمان علیہ السلام بھی موجود تھے۔ قافلے والوں میں سے کسی نے ان سے درخواست کی: > "اے حکیم! ان ڈاکوؤں کو کچھ نصیحت کرو، کوئی وعظ کہو، شاید کچھ اثر ہو جائے، اور وہ ہمارا کچھ سامان لوٹانا مناسب سمجھیں، کیونکہ اتنی دولت کا ضائع ہونا بڑا افسوسناک ہے۔" حضرت لقمان نے جواب دیا: > "مجھے تو اس بات کا افسوس ہے کہ ایسی سیاہ دل قوم کے سامنے حکمت کی بات کہی جائے۔" قطعہ: جس لوہے کو زنگ کھا گیا ہو، وہ صیقل (پالش) سے صاف نہیں ہو سکتا۔ سیاہ دل کو نصیحت دینا بے کار ہے، کیونکہ لوہے کی کیل پتھر میں نہیں گڑتی۔ ایک اور قطعہ: سلامتی کے زمانے میں شکستہ دلوں کی مدد کر، کیونکہ کسی عاجز کے دل کو جوڑنا مصیبتوں کو ٹال دیتا ہے۔ اگر کوئی فقیر تجھ سے عاجزی سے کچھ مانگے، تو اسے دے دے، ورنہ ایک دن کوئی ظالم ...

🌿جنتی بادشاہ اور جہنمی فقیر 🌿

Image
یہ حکایت بہت خوبصورت اور گہرے معنی رکھنے والی ہے، جو ہمیں باطن کی سچائی اور ظاہری اعمال کے پیچھے چھپی نیتوں کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ یہاں اس کا خلاصہ، درس، اور بلاگ کے لیے مناسب انداز میں تحریر پیش کی جا رہی ہے: --- 🌿 حکایت :  نیک لوگوں میں سے ایک نے خواب دیکھا کہ ایک بادشاہ جنت میں ہے اور ایک درویش دوزخ میں۔ وہ بہت حیران ہوا، کیونکہ دنیا میں لوگ درویش کو نیک سمجھتے تھے اور بادشاہ کو دنیا دار۔ اس نے دریافت کیا کہ یہ معاملہ برعکس کیوں ہے؟ غیب سے آواز آئی: > "یہ بادشاہ فقیروں سے محبت رکھتا تھا، ان کی عقیدت و خدمت کرتا تھا، اسی وجہ سے جنت میں ہے۔ اور یہ درویش، دنیاوی بادشاہوں کا قرب ڈھونڈتا تھا، ان کی خوشنودی میں لگا رہتا تھا، اسی وجہ سے دوزخ میں ہے۔" --- ✨ قطعہ > تیری کملی اور گدڑی کا کام آئے گی تو اپنے آپ کو برے کاموں سے بچا برکی ٹوپی اوڑھنے کی ضرورت نہیں ہے فقیروں کی طرح رہ اور تاتاری ٹوپی اوڑھ ترجمہ گلستان سعدی  حکایت پندرہ  --- 📖 درس: اس حکایت سے ہمیں ایک اہم سبق ملتا ہے: ظاہر نہیں، باطن دیکھا جاتا ہے۔ صرف درویشی لباس یا مذہبی ظاہر کافی نہیں۔ اگر نیت دنیا پرستی کی ...

اسلامی اصلاحی سبق

Image
📚 ماخوذ: گلستان سعدی – باب دوم، حکایت ہفتم ✍️ تحریر و ترتیب: گلستان علم و حکمت بلاگ حکایت:  مجھے یاد ہے کہ بچپن میں میں بڑا عبادت گزار، شب بیدار اور زہد و پرہیز کا دلدادہ تھا۔ ایک رات والدِ محترم رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں بیٹھا تھا۔ پوری رات جاگتا رہا، قرآن مجید بغل میں لیے، جبکہ کچھ لوگ ہمارے اردگرد گہری نیند میں سو رہے تھے۔ ظل ببب میں نے والد صاحب سے کہا: "یہ لوگ تو ایسے سو رہے ہیں جیسے مرے پڑے ہوں، کوئی دو رکعت نماز پڑھنے والا بھی نہیں!" میرے والد صاحب نے نہایت حکمت سے فرمایا: "اے بیٹا! اگر تو بھی ان کے ساتھ سو جاتا تو یہ اس سے بہتر تھا کہ تُو ان کی غیبت کرتا!" قطعہ: ڈینگیں مارنے والا اپنے سوا کسی کو نہیں دیکھتا کیونکہ اس کے آگے غرور کا پردہ ہوتا ہے اگر تجھے خدا بینی کی آنکھ عطا ہو جائے تو تُو ہر کسی کو اپنے سے زیادہ عاجز پائے گا سبق: ✔ عبادت کے ساتھ عاجزی ضروری ہے ✔ ریا کاری اور دوسروں کو کمتر سمجھنا نیکی کو ضائع کر دیتا ہے ✔ دوسروں کی غیبت سے اجتناب اور اخلاص لازم ہے ✔ اپنے عمل پر مغرور ہونے سے بچنا ہی اصل نیکی ہے 💬 پیغام: نیکی اور عبادت اگر اخلاص کے ساتھ نہ...

سلطان محمود کی جاگتی آنکھیں۔ایک سبق آموز حکایت

  سلطان محمود کی قبر میں جاگتی آنکھیں — گلستانِ سعدیؒ کی عبرت آموز حکایت 🌿 گلستانِ سعدیؒ کی یہ حکایت ہمیں بتاتی ہے کہ دنیاوی اقتدار، جسمانی طاقت اور دولت سب مٹی میں مل جاتے ہیں، مگر جو چیز باقی رہتی ہے وہ ہے عدل، اخلاص اور نیک نامی۔ 📖 حکایت: خراسان کے ایک بادشاہ نے سلطان محمود سبکتگین کو خواب میں دیکھا کہ اس کا تمام بدن گل سڑ چکا ہے، مٹی ہو چکا ہے، لیکن اس کی آنکھیں ہنوز حلقوں میں گھوم رہی ہیں اور دیکھ رہی ہیں۔ تمام عقلمند اس خواب کی تعبیر سے عاجز آگئے۔ ایک درویش نے کہا: "ابھی تک دیکھ رہا ہے کہ اس کا ملک دوسروں کے پاس ہے۔" 🌿 قطعہ: بہت سے نامور لوگوں کو زمین کے نیچے دفن کردیا گیا جن کی ہستی کا روئے زمین پر اک نشان بھی نہیں رہا وہ بوڑھا مرد جس کو زمین کے سپرد کیا گیا مٹی نے اسے ایسا کھایا کہ اس کی ہڈی بھی نہ بچی نوشیروان کا مبارک نام انصاف کرنے کی وجہ سے زندہ ہے اگرچہ بہت زمانہ گزر گیا کہ نوشیروان نہ رہا اے فلانے! نیکی کرلے اور عمر کو غنیمت جان اس سے پہلے کہ یہ آواز آئے کہ فلاں نہ رہا۔ 🕯️ خلاصہ اور سبق: ✅ اقتدار اور دولت فنا ہو جاتے ہیں، مگر عدل ا...

دکھاوے کی عبادت

🌿 حکایت   ایک عبادت گذار ۔بادشاہ کا مہمان تھا۔جب کھانے  پر  بیٹھے تو اسنے اپنے ارادہ سےکم کھایا۔اور جب نماز کیلیئے  کھڑے ہوئےتو اسنے اپنی عادت سے زیادہ پڑھی۔تاکہ لوگ اسکے بارے میں نیکی کا گمان زیادہ کریں ۔ 🌿فرد🌿 اے بدو مجھے ڈر ہے کہ تو کعبہ تک نہ پہونچ سکے گا  اس لئے کہ جس راستے پر تو چل رہاہے۔وہ ترکستان جاتا ہے۔ جب وہ اپنی قیام گاہ پر پہونچا ۔تو دسترخوان مانگا تاکہ کھانا کھانے اسکا یک سمجھدار لڑکا تھا۔اس نے کہا ابا جان آپنے بادشاہ کی مجلس میں کھانا کیوں نہ کھایا۔اسنے کہا کہ میں نے ان کےسامنے کچھ نہ کھایا۔ تاکہ کام آے۔اس نے کہا نماز بھی دہرالیجئے۔اسلئے کہ آپنے کچھ نہ کیا کہ کام آسکے ۔  🌿قطعہ🌿 اے وہ انسان جو ہنروں کو ہتھیلی پر رکھے پھرتاہے۔ اور عیبوں کو بغل میں چھپائے پھرتا ہے۔ اے مغرور آخر تو کیا خریدے گا  ضرورت کے دن کھوٹی چاندی سے۔ (گلستان باب دوم حکایت ششم) 🌿 🌿 خلاصہ حکایت:🌿🌿 ایک عبادت گزار شخص بادشاہ کے دربار میں مہمان تھا۔ اس نے کھانے میں زہد (کم کھانا) دکھایا تاکہ پارسا لگے۔ نماز میں بھی اپنی معمول سے زیادہ قراءت کی تاکہ لوگ اسے نیک سم...

حضرت سیدنا امام غزالی۔ رحمۃاللہ علیہ الوالی دینی خدمات و اثرات

  حجۃالاسلام حضرت سیدنا امام غزالی علیہ رحمۃاللہ الوالی پانچویں صدی ہجری کی وہ مشہور شخصیت ہیں جنہیں اپنے معاصرین میں ایک نمایاں حیثیت اور مقام حاصل ہے بلکہ حافظ ابو الفضل عبد الرحیم عراقی علیہ الرحمۃ والباقی (متوفی 608ھ)فرماتے ہیں:علمائے کرام رحمہم اللّٰہ السلام کے نزدیک حضرت سیدنا امام غزالی علیہ رحمۃاللہ الوالی پانچویں صدی ہجری کے مجدد ہیں                 ولادت باسعادت       آپکا نام نامی، اسم گرامی محمد بن محمد بن محمد بن احمد طوسی غزالی ،کنیت ابو حامد اور لقب حجۃالاسلام ہے۔ ولادت باسعادت 450ھ۔ طابران ،ضلع طوس، خراسان میں ہوئی خراسان مشرق میں واقع ایک وسیع صوبہ تھا ،اب اسکا ایک بڑا حصہ تقسیم ہو کر کچھہ افغانستان اور کچھ دیگر ممالک میں شامل ہو چکا ہے                   ابتدائی حالات   آپ کے والد ماجد حضرت سیدنا محمد بن محمد علیہ رحمۃاللہ الصمد دھاگے کا کاروبار کرتے تھے،اسی نسبت سے آپ کا خاندان "غزالی"کہلاتا ہے ۔علامہ تاج الدین سبکی علیہ رحمۃاللہ القوی۔فرماتے ہیں ...

عقلمند شہزادہ

Image
 میں نے ایک شہزادے کے بارے میں سناکہ پست قد اور بد صورت تھا اور اسکے دوسرے بھائ لمبے اور خوبصورت تھےایک مرتبہ باپ حقارت اور نا پسندیدگی سے اسکو دیکھ رہا تھا ۔شہزادہ ذہانت اوردانائ سے اس بات کو سمجھ گیا اور بولااے ابا جان ٹھگنا عقلمند لمبے بیوقوف سے اچھا ہوتا ہے کیا یہ بات درست نہیں ہے۔جو چیز قد میں چھوٹی ہوتی ہے قیمت میں بہتر ہوتی ہے۔ فقرہ ۔۔                                ۔ بکری پاک ہے          اور ہاتھی مردار۔           ۔                                         شعر   کوہ طور زمین کے چھوٹے پہاڑوں میں ہےاور یقینا وہ      قدرو منزلت میں اللہ کے نزدیک سب سے بڑا ہے                                    قطعہ          آپ...

ظلم کا انجام

Image
  عجم کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ کا قصہ بیان  کرتے ہیں۔ کہ اس نے رعایا کے مال پردست درازی کر رکھی تھی۔اور ظلم وستم شروع کردیا تھا یہاں تک کہ رعایا اس کے ظلم کی مکاریوں سے دوسری جگہ چلی گئی اور اسکے ظلم کی مصیبت سے مسافرت کا راستہ اختیار کرلیا جب رعایا کم ہوگئی۔ تو حکومت کی آمدنی میں گھاٹا آیا اور خزانہ خالی ہوگیا۔ دشمنوں کو (اس ملک کے فتح کر نے کا)لالچ پیدا ہوگیا۔ اور وہ زور پکڑ گئے۔۔۔۔ جو شخص مصیبت کے وقت اپنا مدد گار چاہے۔۔ اسکو کہہ دو کہ سلامتی کے وقت شرافت سے کام لے۔ ۔ اگر تو تابعدار غلام پر بھی مہربانی نہیں کرےگا تو وہ بھی بھاگ جائیگا ۔۔ مہربانی کر مہربانی تو غیر بھی فرمابردار ہو جائیگا۔۔۔ ایک مرتبہ اسکی مجلس میں کتاب شاہنامہ پڑھ رہے تھے۔ ضحاک بادشاہ کی بربادی اور فریدوں کی حکومت کا بیان تھا۔ وزیر نے بادشاہ سے پوچھا کیا جناب کچھ سمجھے۔ کہ فریدوں جسکے پاس نہ خزانہ تھا نہ لشکر۔۔ کس طرح اسکو حکومت مل گئی۔ اس نے کہا اسیطرح جیسا کہ تم نے سنا کہ رعایا اسکی طرفداری میں جمع ہوگئی۔ اور اسے مضبوط کردیا اس نے بادشاہی حاصل کرلی۔ وزیر نے کہا اے بادشاہ جب رعایا کا اکھٹا ہوجانا بادش...

حسد کی آگ

Image
 میں نے ایک سپاہی زادہ کو اغلمش کے دروازے پر دیکھا جو کہ عقل ۔سمجھ۔دانائی اور ذہانت ناقابل بیان رکھتا تھا۔بچپن ہی سے بڑائی کے نشانات اسکی پیشانی سے ظاہر تھے۔۔۔ فرد۔                        ۔۔۔ اس کے سر پر ہوشمندی کی وجہ سے بڑائی کا ستارہ چمک رہا تھا خلاصہ یہ کہ بادشاہ کی نظر پر چڑھ گیا چونکہ ظاہری وباطنی حسن رکھتا تھا ۔اور عقلمندوں نے کہا ہے ۔مالداری دل سی ہے نہ کہ مال سے۔ اور بڑائ عقل سے ہےنہ کہ عمر سے۔اس کے ہم پیشہ اس کے مرتبہ پر جلنے لگے۔ اور ایک خیانت کی اس پر تہمت لگائی اور اسکے مار ڈالے جانے پربے نتیجہ کو شش کی جب دوست مہربان ہوتو۔ دشمن کیا کر سکتا ہے۔بادشاہ نے دریافت کیا تجھ سے انکی دشمنی کا سبب کیا ہے۔ اس نے کہا بادشاہی حکومت کے زیر سایہ خدا اسے بر قرار رکھے میں نے سب کو راضی کرلیا ہے بجز حاسدوں کے کیونکہ وہ تو جب ہی راضی ہوں گے جب مجھ سے نعمتیں چھن جائیں۔ خدا کرے شاہی حکومت اور دبدبہ ہمیشہ باقی رہے قطعہ میں یہ کر سکتا ہو۔ کہ کسی کا دل نہ دکھاؤ ں  میں حاسد کا کیا کروں وہ تو خود بخود رنج میں ہے اے حاسد تو مرجا ت...

🐺 بھیڑئیے کا بچہ

Image
 عرب کے چوروں کا ایک گروہ ایک پہاڑ کی چوٹی پر (قبضہ جما)بیٹھا تھا۔اور قافلہ کا راستہ بند کردیا تھا۔ اور شہروں کی رعایا اس کے مکر وفریب سے ڈرتی تھی۔ اور بادشاہ کا لشکر عاجز تھا۔ چونکہ اسنے ایک پہاڑ کی چوٹی پر محفوظ جاے پناہ بنالی تھی۔اور اسکو اپنا ٹھکانا اور پناہ گاہ بنالیا تھا۔ ان اطراف کے شہروں کے عقلمندوں نے اس کی نقصان رسانی کے رفع کرنے کا مشورہ کیاکہ اگر یہ گروہ اسی طور پر چند دن جما رہے گا ۔تو پھر مقابلہ نا ممکن ہوجاےگا۔۔                                                             مثنوی۔                               جس درخت نے ابھی جڑ پکڑی ہے۔            ایک آدمی کی طاقت سے اکھڑ جائے گا۔          اور اگرتو اسی طرح اسکو ایک زمانے تک چھوڑ دیگا۔    تو گردوں کے ذریعہ بھی اسکوجڑسے اکھا...

گہن کا بیان

Image
حدیث : صحیحین میں ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی، کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے عہد کریم میں ایک مرتبہ آفتاب میں گہن لگا مسجد میں تشریف لائے اور بہت طویل قیام و رکوع وسجود کے ساتھ نماز پڑھی کہ میں نے کبھی ایسا کرتے نہ دیکھا اور یہ فرمایا: کہ اللہ عزوجل جل کسی کی موت وحیات کے سبب اپنی یہ نشانیاں ظاہر نہیں فرماتا ، لیکن ان سے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، لہذا جب ان میں سے کچھ دیکھو تو ذکر ود عاد استغفار کی طرف گھبرا کر اٹھو۔۔ بہار شریعت سورج گہن کی نماز سنت مؤکدہ ہے اور چاند گہن کی مستحب ۔ سورج گہن کی نماز جماعت سے پڑھنی مستحب ہے اور تنہا تنہا بھی ہوسکتی ہے اور جماعت سے پڑھی جائے تو خطبہ کے سوا تمام شرائط جمعہ اس کے لیے شرط ہیں، وہی شخص اس کی جماعت قائم کر سکتا ہے جو جمعہ کی کر سکتا ہے، وہ نہ ہو تو تنہا تنہا پڑھیں، گھر میں یا مسجد میں ۔ (4) (درمختار، ردالمحتار ) بہار شریعت 

حکمت سے کلام کرنا

Image
میں نے ایک بادشاہ کے بارے میں سنا کہ اس نے ایک قیدی کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ بیچارے نےاس نا امیدی کی حالت میں اپنی زبان میں بادشاہ کو گالیاں دینا اور سخت وسست کہنا شروع کردیا اس لئے کہ لوگوں نے کہا ہے۔جو کوئ جان سے ہاتھ دھو لیتا ہےجو کچھ دل میں آتا ہے کہتا ہے۔                        بیت         ضرورت کے موقع پر جب بھاگنا ممکن نہ رہے               تو ہاتھ تیز تلوار کی نوک پکڑ لیتا ہے                         شعر انسان جب نا امید ہو جاتا ہےتو اسکی زبان دراز ہو جاتی ہے           جیسے دبی ہوئی بلی کتے پر حملہ کردیتی ہے   بادشاہ نے دریافت کیا کہ کیا کہتا ہے؟ ایک نیک خصلت وزیر بولا۔ اے بادشاہ وہ یہ کہ رہا ہے وہ لوگ بہت اچھے ہیں جو غصہ پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں۔ بادشاہ کو رحم آگیا۔ اور اس کو قتل کرنے کا خیال ترک کردیا۔دوسرا وزیر جو اس وزیر کا مخالف تھا بولا ہمارے ہم پیشہ ل...